اُستاذ مُحمّد طَاسِین

تعارف

استاذ محمد طاسینؒ پاکستان کی ممتاز علمی، تحقیقی اور فکری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ ایک صاحبِ مطالعہ محقق، عالمِ دین اور صاحبِ قلم دانش ور تھے جنہوں نے اپنی علمی قابلیت، فکری اعتدال اور روایتی جمود سے ہٹ کر بالخصوص معاشی افکار میں منفرد آرا کی بدولت ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ آپ کی تصنیفی و تحقیقی خدمات اس علمی امتیاز کی روشن دلیل ہیں۔

اگرچہ آپ کے مضامین قرآنِ مجید، حدیث، سیرت النبی ﷺ، سیرتِ صحابہؓ، تاریخ، معاشرت اور سماجی مسائل سمیت متعدد موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں، تاہم بحیثیت محقق آپ کا خصوصی میدانِ تحقیق اقتصادیات اور سماجیات رہا۔ آپ نے اپنے مقالات اور مضامین میں ہمیشہ عصری تقاضوں اور معاشرتی مسائل کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ان کے مختلف پہلوؤں پر علمی و تحقیقی انداز میں روشنی ڈالی۔ خصوصاً آپ کی تحریروں کا مخاطب اہلِ علم، پالیسی ساز اور اربابِ اقتدار رہے، جنہیں آپ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں درپیش فکری و عملی چیلنجز کی جانب متوجہ کرتے تھے۔

آپ نے ’’قرآنِ مجید کا تصورِ معاشرہ‘‘، ’’سیرتِ رسول ﷺ کا سیاسی پہلو‘‘، ’’اسلامی معاشی نظام میں رکاوٹیں‘‘، ’’سیرتِ رسول ﷺ اور معاشی مساوات‘‘، ’’مروجہ نظامِ زمینداری اور اسلام‘‘، ’’اسلام کی عادلانہ اقتصادی تعلیمات‘‘، ’’اسلامی اقتصاد کے چند پوشیدہ گوشے‘‘، ’’متبادل سودی نظام کے دعوے‘‘، ’’خواتین کی شہادت‘‘، ’’مسئلہ ایمان و کفر‘‘، ’’ربح اور سود میں فرق‘‘، ’’قرنیہ کی پیوند کاری کا مسئلہ‘‘، ’’تغیر پذیر معاشرے میں شریعت کا کردار‘‘، ’’بیمہ کی شرعی حیثیت‘‘، ’’کرایہ داری نظام‘‘ اور ’’علمائے کرام کی سماجی ذمہ داری‘‘ سمیت بے شمار اہم علمی موضوعات پر قلم اٹھایا۔ علاوہ ازیں اصلاحی اور فکری موضوعات پر آپ کی چار سو سے زائد تقاریر پاکستان ریڈیو سے نشر ہوئیں، جو آپ کے علمی اثرات اور عوامی رہنمائی کا اہم مظہر ہیں۔

استاذ محمد طاسینؒ نے پاکستان کے متعدد قومی اداروں میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ آپ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن، وفاقی وزارتِ قانون و انصاف کے انکوائری کمیشن برائے خواتین کے رکن اور وفاقی شرعی عدالت کے ماہرِ اقتصادیات مشیر رہے۔ اسی طرح وفاقی وزارتِ مذہبی امور کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے سیرت النبی ﷺ کتب و مقالات کے قومی مقابلوں میں طویل عرصے تک بطور جج خدمات انجام دیتے رہے۔ اس کے علاوہ ادارہ تحقیقاتِ اسلامی، دعوہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اقبال اکیڈمی لاہور اور ہمدرد شوریٰ فاؤنڈیشن کراچی جیسے اہم علمی و تحقیقی اداروں سے بھی وابستہ رہے۔ جامعہ کراچی کے کلیہ معارفِ اسلامیہ، شعبۂ علومِ اسلامیہ اور شعبۂ عربی کے بورڈ آف اسٹڈیز اور سلیکشن بورڈ کے اعزازی رکن ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کے زبانی ممتحن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دینے کا اعزاز حاصل رہا۔

اگرچہ آپ نے مختلف اداروں میں رسمی ذمہ داریاں نبھائیں، لیکن آپ کا اصل شغف کتابوں، تحقیق اور علمی مجالس سے وابستہ رہا۔ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آمد پر آپ نے کراچی کی علمی لائبریری ’’رباط العلوم‘‘ میں کچھ عرصہ خدمات انجام دیں، جس کے بعد آپ برصغیر کے معروف تحقیقی و اشاعتی ادارے ’’مجلسِ علمی‘‘ سے وابستہ ہوگئے اور تقریباً اڑتالیس برس تک اس ادارے کی خدمت کرتے رہے۔

مجلسِ علمی لائبریری استاذ محمد طاسینؒ کی علمی شخصیت کا مرکز بن گئی تھی۔ یہاں پاکستان بھر کی جامعات کے اساتذہ، اہلِ فکر و دانش، مختلف مکاتبِ فکر کے علماء، مذہبی و سیاسی شخصیات، اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان، وزراء، قانون دان اور بے شمار محقق طلبہ و طالبات علمی استفادے اور فکری رہنمائی کے لیے حاضر ہوتے تھے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر نثار احمد کا تحقیقی مقالہ ’’مولانا طاسین اور مجلسِ علمی‘‘ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

استاذ محمد طاسینؒ کے افکار، علمی خدمات اور فکری تفردات کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی مختلف جامعات میں آپ کی شخصیت اور افکار پر دو ایم فل اور دو پی ایچ ڈی سطح کے تحقیقی مقالات مکمل ہو چکے ہیں۔ مزید برآں، نئی نسل کو آپ کی علمی خدمات اور فکری ورثے سے متعارف کرانے کے لیے ماہنامہ ’’تعمیر و افکار‘‘ کا خصوصی شمارہ ’’علامہ طاسین نمبر‘‘ بھی شائع کیا جا چکا ہے، جو آپ کی علمی عظمت اور فکری اثرات کا ایک اہم اعتراف ہے۔

Publications